مراقبہ سیکھیے – پہلی قسط

السلام علیکم دوستو! کیا آپ اپنی زندگی کے ہر مسئلے کا روحانی حل تلاش کر رہے ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے دل کو سکون ملے، بے چینی ختم ہو اور اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کی لذت نصیب ہو؟ اگر آپ روحانی مراقبہ سیکھنا چاہتے ہیں، تو آپ درست جگہ پر ہیں۔ ہمارے ادارے “روحانی ماہنامہ تحفہ روحانیات” اور “مکتبہ روحانیات” کی طرف سے ہم نے ایک مکمل سلسلہ شروع کیا ہے، جس میں ہم آپ کو مراقبہ سکھائیں گے اور بتائیں گے کہ یہ کیسے آپ کی
زندگی بدل سکتا ہے

مراقبہ کی تعریف
مراقبہ کا لفظ “رَاقَبَ” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں “دیکھنا، توجہ دینا اور قریب ہونا۔” اس کا قریبی لفظ “رَقیب” ہے، جس کا مطلب ہے “محافظ اور دیکھنے والا۔” جب بندہ مراقبہ کرتا ہے تو گویا وہ اپنے دل و دماغ کو اس حد تک پاک اور یکسو کر لیتا ہے کہ وہ خود کو اللہ تعالیٰ کے قریب محسوس کرتا ہے۔ مراقبہ کرنے والا “مُرَقِّب” کہلاتا ہے، یعنی وہ شخص جو اللہ کے قریب ہونا چاہتا ہے۔ مراقبہ کا اصل فلسفہ مراقبہ کا مقصد یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی محبت اور قرب حاصل کریں۔ جب ہم مراقبہ کی مشق کرتے ہیں تو ہم اپنی توجہ دنیاوی خیالات سے ہٹا کر صرف ایک ذات پر مرکوز کرتے ہیں۔ یہ کیفیت دل سے تمام غیر ضروری خیالات کو دور کر کے دل کو نورانی بنانے کی پہلی سیڑھی ہے۔ مراقبہ کرنے والا اس وقت اللہ کے نور کے قریب ہونے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ یہ کیفیت ایک نئے روحانی دروازے کو کھولتی ہے جس سے بندہ باطنی سکون محسوس کرتا ہے۔ مراقبہ اور تنہائی اللہ کے قریب ہونے کے لیے تنہائی نہایت ضروری ہے۔ جتنی دیر آپ خاموشی اور تنہائی میں بیٹھیں گے، اتنی دیر آپ اللہ کے ذکر میں گم رہ سکیں گے۔ اس ذکر میں وقت کی کوئی قید نہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کی توجہ خالص ہو۔ آپ کے ذہن پر دنیاوی دباؤ، غصہ یا رنج نہیں ہونا چاہیے۔ جب انسان اپنی توجہ یکسو کر لیتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ کی قربت حاصل ہو رہی ہے۔

روحانی مراقبہ کرنے کا طریقہ

مراقبہ اور کشف مراقبہ کی دنیا میں “کشف” ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ “کاشف” وہ شخص ہوتا ہے جو روحانی نظر سے دیکھ سکتا ہے، یعنی جب ظاہری آنکھیں بند ہو جاتی ہیں تو دل کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ مراقبہ کی پہلی سیڑھی یہی ہے کہ دل میں نورانی کیفیت پیدا ہو اور باطنی شعور بیدار ہونا شروع ہو جائے۔ جو شخص مراقبہ پر محنت کرتا ہے، رفتہ رفتہ اس پر روحانی راز اور حقیقتیں منکشف ہونے لگتی ہیں۔ مستقل مزاجی کی شرط مراقبہ میں سب سے اہم چیز مستقل مزاجی ہے۔ اگر آپ روزانہ آدھا گھنٹہ بھی مراقبہ کریں تو وقت کے ساتھ ساتھ آپ کی روحانی طاقت بڑھتی جائے گی۔ اگر آپ مستقل مزاج نہیں ہیں تو آپ کچھ دن کے شوق میں یہ کام شروع کریں گے اور پھر چھوڑ دیں گے۔ یاد رکھیں: “مراقبہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو دل و جان سے اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور ہمت کے ساتھ محنت کرتے ہیں۔” آج ہی عہد کریں 1. روزانہ کم از کم 30 منٹ مراقبہ کریں۔ 2. اس وقت کو آہستہ آہستہ بڑھائیں تاکہ ایک گھنٹہ یا اس سے زیادہ وقت حاصل ہو۔ 3. اپنی توجہ، نیت اور خلوص کو مضبوط رکھیں۔ اگر آپ یہ عہد کریں گے، تو ان شاء اللہ کامیابی آپ سے دور نہیں ہوگی۔ مراقبہ کے روحانی فوائد دل میں اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ ذہن منفی خیالات سے پاک ہو جاتا ہے۔ دعائیں قبول ہونے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قربت اور محبت نصیب ہوتی ہے

Need Help? Chat with us