روزے کے فضائل اور دنیاوآخرت کی کامیابی
رمضان المبارک: رحمت، اصلاح اور روحانی انقلاب کا مہینہ
رمضان المبارک وہ عظیم الشان مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام مہینوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ یہ مہینہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ روح کی تزکیہ، نفس کی اصلاح اور بندے کے رب سے تعلق کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔ رمضان کا پہلا عشرہ خصوصیت کے ساتھ رحمت کا عشرہ کہلاتا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت بندوں پر موسلا دھار بارش کی طرح نازل ہوتی ہے۔ یہی وہ ایام ہیں جن میں اگر بندہ خلوص کے ساتھ عبادت میں مشغول ہو جائے تو اس کی زندگی کے بہت سے مسائل خود بخود حل ہونے لگتے ہیں۔
پہلا عشرہ: روزہ اور تقویٰ کا عملی مظاہرہ
رمضان کے پہلے عشرے کی سب سے بڑی عبادت روزہ ہے۔ روزہ محض کھانے پینے سے رک جانے کا نام نہیں بلکہ آنکھ، کان، زبان اور دل کو گناہوں سے بچانے کا عملی مظاہرہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے روزے کو تقویٰ کا ذریعہ قرار دیا ہے، یعنی ایسا عمل جو انسان کے اندر خدا خوفی پیدا کرتا ہے۔ جو شخص پہلے عشرے میں روزے کی حقیقت کو سمجھ لیتا ہے، اس کیلئے پورا رمضان روحانی انقلاب بن جاتا ہے۔
پہلے عشرے کی بنیادی عبادات
پہلے عشرے میں عبادات کا اصل مقصد یہ ہونا چاہئے کہ بندہ اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کی طرف موڑ لے۔ نمازوں کی پابندی، نوافل کی ادائیگی، قرآن مجید کی تلاوت اور ذکرِ الٰہی اس عشرے کی بنیاد ہیں۔ خاص طور پر فجر اور عشاء کے بعد چند لمحے خاموشی میں اللہ کو یاد کرنا دل کی دنیا بدل دیتا ہے۔ اسی عشرے میں مانگی گئی دعائیں جلد قبول ہوتی ہیں کیونکہ یہ رحمت کے دن ہیں۔
رمضان کے دنیاوی اور صحت کے فوائد
رمضان کی افادیت صرف دینی ہی نہیں بلکہ دنیاوی بھی ہے۔ روزہ انسان کے اندر نظم و ضبط پیدا کرتا ہے، صبر سکھاتا ہے اور خواہشات پر قابو پانے کی مشق کراتا ہے۔ یہی خوبیاں دنیاوی زندگی میں کامیابی کا سبب بنتی ہیں۔ جو شخص رمضان میں اپنے وقت کی قدر سیکھ لیتا ہے، وہ بعد کی زندگی میں بھی کامیاب رہتا ہے۔ صحت کے اعتبار سے روزہ جسم کو کئی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
پہلے عشرے کا مجرب روحانی وظیفہ
پہلے عشرے کا ایک مجرب روحانی وظیفہ یہ ہے کہ روزانہ فجر کے بعد یا رحمن یا رحیم ایک سو مرتبہ پڑھا جائے۔ اس وظیفے کا فائدہ یہ ہے کہ دل سے بے چینی ختم ہوتی ہے، گھریلو جھگڑے کم ہوتے ہیں اور رزق میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی دنیاوی رکاوٹ یا بندش کا شکار ہو تو وہ اس وظیفے کے ساتھ صدقہ بھی دے، خواہ وہ چند روٹیاں ہی کیوں نہ ہوں۔
سورۂ فاتحہ کی روحانی تاثیر
پہلے عشرے میں سورۂ فاتحہ کا پڑھنا نہایت مفید ہے۔ بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ سورۂ فاتحہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں کی کنجی ہے۔ جو شخص روزانہ سات مرتبہ سورۂ فاتحہ پڑھ کر اپنے مسائل اللہ کے سپرد کر دے، اس کیلئے راستے کھلنے لگتے ہیں۔
روحانی واقعات اور عملی رہنمائی
یہاں ماہرِ روحانیات محمد ایاز مزمل حسین شاہ صاحب کا ایک واقعہ قابلِ ذکر ہے۔ ایک شخص جو کئی برس سے شدید مالی پریشانی میں مبتلا تھا، اس کے کاروباری معاملات مکمل طور پر رکے ہوئے تھے۔ اس نے محمد ایاز مزمل حسین شاہ صاحب سے رابطہ کیا۔ آپ نے اسے رمضان کے پہلے عشرے میں فجر کے بعد یا رزاق گیارہ دن تک ایک سو گیارہ مرتبہ پڑھنے اور ہر جمعہ کو کسی مستحق کو کھانا کھلانے کا مشورہ دیا۔ اللہ کے فضل سے رمضان ختم ہونے سے پہلے ہی اس کے رکے ہوئے معاملات بحال ہو گئے اور اسے نیا کاروباری موقع میسر آیا۔
ایک اور واقعہ میں ایک خاتون کا ذکر ہے جن کا شادی کا معاملہ برسوں سے اٹکا ہوا تھا۔ انہوں نے محمد ایاز مزمل حسین شاہ صاحب سے رہنمائی لی۔ آپ نے انہیں پہلے عشرے میں عشاء کے بعد دو رکعت نفل پڑھنے اور اس کے بعد سورۂ انشراح اکیس مرتبہ پڑھنے کی تلقین کی، ساتھ ہی ہر ہفتے یتیم بچوں میں کچھ نہ کچھ صدقہ دینے کی ہدایت دی۔ چند ہی مہینوں میں ان کا رشتہ طے پا گیا اور وہ خود اس بات کی گواہ بنیں کہ رمضان کے وظائف نے ان کی زندگی بدل دی۔

پہلے عشرے میں صدقہ و خیرات کی اہمیت
پہلے عشرے میں صدقہ و خیرات کی خاص اہمیت ہے۔ یہ عشرہ رحمت کا ہے اور رحمت بانٹنے سے بڑھتی ہے۔ اگر کوئی شخص روزانہ افطار سے پہلے تھوڑا سا صدقہ دے، چاہے ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو، تو اس کے رزق اور صحت میں برکت آتی ہے۔ صدقہ صرف مال سے نہیں بلکہ اچھے اخلاق اور مسکراہٹ سے بھی ہوتا ہے۔
رمضان کے پہلے عشرے کا پیغام
رمضان کا پہلا عشرہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر ہم اللہ کی طرف پہلا قدم بڑھائیں تو اللہ ہماری طرف کئی قدم بڑھاتا ہے۔ یہ عشرہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عبادت کو بوجھ نہ سمجھا جائے بلکہ نعمت جانا جائے۔ جو شخص اس عشرے میں اپنی نیت درست کر لیتا ہے، اس کیلئے باقی رمضان آسان اور بابرکت ہو جاتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ رمضان کے پہلے عشرے کی عبادات، روزے کے فضائل اور روحانی اعمال اگر سمجھ بوجھ کے ساتھ انجام دیے جائیں تو انسان کی دینی اور دنیاوی زندگی دونوں سنور جاتی ہیں۔ یہی رمضان کا اصل پیغام ہے اور یہی وہ راز ہے جسے بزرگانِ دین ہمیشہ بیان کرتے آئے ہیں۔

