مراقبہ سیکھیے – دوسری قسط
تعارف
پہلی قسط میں ہم نے مراقبہ کے بنیادی تصور، اس کی اہمیت اور روزمرہ زندگی میں اس کے فوائد پر گفتگو کی تھی۔ ہم نے جانا کہ مراقبہ ذہنی دباؤ کم کرنے، توجہ بڑھانے اور اندرونی سکون حاصل کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
اس دوسری قسط میں ہم مراقبہ کے عملی طریقے، دماغ کو خیالات سے آزاد کرنے کی مشقیں، اور سانس کے ذریعے ذہن و جسم کو متوازن کرنے کے طریقے سیکھیں گے۔
مراقبہ یا میڈیٹیشن کیا ہے؟
مراقبہ ایک ایسی ذہنی مشق ہے جس میں انسان اپنے دماغ کو مکمل سکون دیتا ہے، غیر ضروری خیالات سے آزاد کرتا ہے، اور اپنی توجہ کسی ایک نقطے یا عمل پر مرکوز کرتا ہے۔
سب سے آسان مراقبہ وہ ہے جس میں انسان اپنی سانس پر توجہ دیتا ہے اور حال کے لمحے میں جینا سیکھتا ہے۔
دماغ کا ٹھہراؤ کرنا کیوں ضروری ہے؟
آج کے مصروف اور تیز رفتار دور میں انسان کا دماغ مسلسل خیالات، دباؤ اور الجھنوں میں گھرا رہتا ہے۔ ہم بظاہر خاموش ہوتے ہیں، مگر ذہن اندر ہی اندر مصروف رہتا ہے۔
مراقبہ کا مقصد یہ ہے کہ ہم چند لمحوں کے لیے دماغ کو ان خیالات سے آزاد کریں اور اسے سکون کا موقع دیں۔
سانس اور دماغ کا تعلق
ماہرین کے مطابق سانس اور ذہنی کیفیت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔
غصے، خوف اور پریشانی میں سانس بے قابو ہو جاتی ہے، جبکہ سکون اور اطمینان میں سانس ہموار اور گہری ہوتی ہے۔
اسی لیے مراقبہ میں سانس پر توجہ دینے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
مراقبہ اور ذہنی دباؤ
دنیا بھر کی تحقیقات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ مراقبہ ذہنی دباؤ کم کرتا ہے۔
جدید تحقیق کے مطابق دفاتر میں کام کرنے والے افراد ای میل پڑھتے وقت غیر محسوس طور پر سانس روک لیتے ہیں، جسے “Email Apnea” کہا جاتا ہے۔ یہ عمل نروس سسٹم پر منفی اثر ڈالتا ہے

مراقبہ کی اقسام اور مشقیں
مراقبہ کے کئی طریقے ہیں، جن کا مقصد مختلف حالات میں ذہن کو سکون دینا ہے۔
باکس بریتھنگ
یہ سٹریس کم کرنے کی مشہور مشق ہے، جس میں سانس کو مخصوص وقفوں میں کنٹرول کیا جاتا ہے۔
نِدرا میڈیٹیشن
یہ طریقہ نیند کی کمی اور بے خوابی کے شکار افراد کے لیے مؤثر ہے۔
مائنڈ فل میڈیٹیشن
اس میں سانس کے ساتھ کسی مثبت منظر یا روشنی کا تصور کیا جاتا ہے۔
ایڈوانس مراقبہ
یہ جسمانی توانائی اور اندرونی حرارت پر قابو پانے کی مشقیں ہیں۔
شیواسنا – بنیادی مراقبہ
شیواسنا مراقبہ کی سب سے آسان اور مؤثر مشق ہے۔
اس میں انسان سیدھا لیٹ کر آنکھیں بند کرتا ہے، گہری سانس لیتا ہے اور جسم کے ہر حصے کو آہستہ آہستہ ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے۔
دو منٹ سے آغاز کریں
اگر آپ مراقبہ میں نئے ہیں تو ابتدا میں صرف دو منٹ کافی ہیں۔
جیسے جیسے ذہن عادت بناتا جائے، وقت خود بخود بڑھنے لگتا ہے۔
دماغی طاقت بڑھانے کا راز
ماہرین کے مطابق مراقبہ کے دوران جب کوئی خیال آتا ہے اور ہم دوبارہ سانس پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، تو یہ دماغ کے لیے ویسی ہی مشق ہے جیسے جسم کے لیے ورزش۔
یہ عمل ذہنی قوت اور توجہ کو مضبوط بناتا ہے۔
مراقبہ کے روحانی اثرات
مراقبہ انسان کو صرف ذہنی سکون ہی نہیں دیتا بلکہ روحانی ترقی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔
یہ دل کو ذکرِ الٰہی کی طرف مائل کرتا ہے، نفس کے بوجھ کو کم کرتا ہے اور عبادت میں یکسوئی پیدا کرتا ہے۔
آخری مشورہ
روزانہ کم از کم بیس منٹ مراقبہ کریں۔
فجر کے بعد یا سونے سے پہلے کا وقت مراقبہ کے لیے بہترین ہے۔

