جنات اور روحانی اسرار کی حقیقت
روحانی سفر کا آغاز
گزشتہ شمارہ جنوری میں اس روحانی سلسلے کا آغاز کیا گیا تھا اور ابتدائی سے قسط وار ترتیب دیا گیا۔ سلسلے کو دوبارہ وہیں سے جوڑا جا رہا ہے جہاں اسے پہلے روکا گیا تھا۔ قارئین تحفہ روحانیات کے پر زور اصرار پر، اس بندہ احقر کے ساتھ مختلف ادوار میں پیش آنے والے مختصر مگر حقیقی روحانی واقعات اور مشاہدات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
بہت کم عمری میں قلب کا رخ خالق حقیقی کی جانب مڑ گیا۔ دنیا ایک مٹی کے عارضی امیر محسوس ہونے لگی۔ فنا اور بقا کے تصورات ذہن و روح میں گھر کرنے لگے۔ شاید یہی درویشانہ زندگی کا پہلا باقاعدہ آغاز تھا۔ اس عمر میں نہ فہم کی پختگی تھی اور نہ یہ شعور کہ روح کے ساتھ کوئی قوت مسلسل ہم سفر ہو گئی ہے۔ بس اتنا معلوم تھا کہ دل کی دنیا بدل چکی ہے اور روح کسی دوسرے سمت سن رہی ہے۔ یہ کیفیت تقریباً چھ سال تک قائم رہی۔
بہت کم عمری میں قلب کا رخ خالق حقیقی کی جانب مڑ گیا۔ دنیا ایک مٹی کے عارضی امیر محسوس ہونے لگی۔ فنا اور بقا کے تصورات ذہن و روح میں گھر کرنے لگے۔ شاید یہی درویشانہ زندگی کا پہلا باقاعدہ آغاز تھا۔ اس عمر میں نہ فہم کی پختگی تھی اور نہ یہ شعور کہ روح کے ساتھ کوئی قوت مسلسل ہم سفر ہو گئی ہے۔ بس اتنا معلوم تھا کہ دل کی دنیا بدل چکی ہے اور روح کسی دوسرے سمت سن رہی ہے۔ یہ کیفیت تقریباً چھ سال تک قائم رہی۔
میرے بزرگ کی روحانی میراث
(حکیم رشید احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ)
دس اپریل کو محترم حکیم رشید احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ کی برسی ہے۔ قارئین تحفہ روحانیات سے گزارش ہے کہ آگے پڑھنے سے پہلے چند لمحے ٹھہر کر ان کے لیے فاتحہ اور سورۃ مزمل 5، 12، 14 یا 21 بار پڑھ کر درجات کی بلندی کے لیے دعا کریں۔
نا نا محترم نے سہارنپور میں طب اور دینی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ گھر کا ماحول دینی تھا، جس کی وجہ سے دین کی طرف خصوصی توجہ اور یکسوئی رہی۔ تحریک پاکستان میں فعال کردار ادا کیا اور حکیم رشید احمد سہارنپوری کے نام سے جانے گئے۔ تقسیم ہند کے بعد مستقل طور پر پاکستان میں سکونت اختیار کی۔
ان کے والد، حکیم عبدالمجید سہارنپوری، کو فیصل آباد کے نواحی علاقے کے زمینداروں نے اس غرض سے لے آئے کہ علاقے میں کوئی ماہر حکیم یا ڈاکٹر موجود نہ تھا۔ زمینداروں نے زرعی زمین، مکان اور مددگار بھی فراہم کیے۔ اس دوران نانا محترم مدرسہ میں زیر تعلیم تھے۔ والد کے وصال اور تقسیم کے بعد پاکستان منتقل ہوئے۔
بچپن اور روحانی تربیت
بچپن اور لڑکپن کا زیادہ تر وقت نانا محترم کے ساتھ گزرا۔ وہ ایک باکمال روحانی ہستی تھے۔ ان کے روزانہ کے اذکار و اوراد حیران کن تھے۔ فجر سے عشاء تک ایک قرآن کریم ختم کرنا معمول تھا۔ فرض نماز کے بعد سورہ توبہ کی آخری آیات کا ورد کرتے اور اپنی پیشانی پر کلمہ طیب تحریر کرتے تاکہ قیامت کے دن یہ نور کی مانند چمکے۔
انہیں سورہ توبہ کی آخری آیات سے خاص روحانی تصرف اور دست غیب حاصل تھا۔ بچپن میں جیب خرچ مانگنے پر کبھی فرماتے کہ “جیب خالی ہے”، لیکن چند لمحوں بعد وہی جیب ہمیں سکے یا نوٹ فراہم کرتی۔
ایک مرتبہ دیکھا کہ وہ ورد میں مشغول تھے اور سامنے دیوار آگئی۔ اگلے لمحے وہ دیوار کے دوسری جانب پہنچ گئے۔ سوال کرنے پر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔

روحانی امانت کی منتقلی
زندگی کے آخری برسوں میں نانا محترم کی خدمت کا شرف حاصل ہوا۔ اسی وقت انہوں نے اپنی پوری روحانی امانت اس بندہ احقر محمد ایاز مزمل حسین شاہ کے سپرد کی۔
سن 2000 میں طبیعت خراب ہوئی تو اہل خانہ انہیں علاج کے لیے کراچی لے گئے۔ وہ مسلسل فرماتے رہے: “ایاز مزمل کو بلا دو، تب ہی جاؤں گا۔” میں کراچی پہنچا تو کمرے میں داخل ہوتے ہی چہرے پر عجیب روحانی سرور دیکھا۔ تقریباً دو گھنٹے یہ کیفیت برقرار رہی، جسے بیان کرنا ممکن نہیں۔ نزع کے وقت چار نورانی ہستیاں ظاہر ہوئیں اور روح پرواز کر گئی۔
روحانی وراثت اور خاندانی تعلق
نانی محترمہ بھی ایک صاحب کمال خاتون تھیں، فیصل آباد میں دفن ہیں۔ نفل ادا کیے، سب سے معافی مانگی اور وصال فرمایا۔
روحانیت والدین سے وراثت میں ملی۔ والد علم نجوم کے ماہر تھے اور زائچوں و سیاروی احکام کے ذریعے روحانی و دنیاوی امور واضح فرماتے۔ حضرت توکل شاہ سے وابستگی صرف رسمی عقیدت نہیں بلکہ ایک زندہ روحانی رشتہ تھا، جس نے دل کے انتشار کو مرکز عطا کیا اور روحانی سفر کو واضح راستہ دیا۔
حضرت سے پہلی ملاقات ہی دل میں اعتماد اور سکون کی کیفیت لائی۔ نام آتے ہی دل میں خوف کے بجائے سکون، اضطراب کے بجائے یقین، اور سوال کے بجائے سر تسلیم خم ہونے کا جذبہ پیدا ہوتا تھا۔ یہ عقیدہ تجربے، مشاہدے اور باطنی رہنمائی سے پروان چڑھا۔
حقیقی روحانیت کی حقیقت
روحانی فیض مانگا نہیں جاتا بلکہ ادب، خاموشی اور استقامت کے ساتھ قبول کیا جاتا ہے۔ جو کچھ عطا ہو، وہ ذمہ داری بن کر انسان کے کندھوں پر آ جاتا ہے۔
روحانی راستے میں الجھن یا خوف کے لمحات میں، حضرت توکل شاہ کی نسبت ایک مضبوط دیوار کی مانند دل میں موجود تھی، جس کے سائے میں نفس کی سرکشی دم توڑ دیتی تھی۔ سب سے بڑا اثر یہ ہوا کہ انسان نے خود کو مرکز نہ سمجھا، بلکہ ہر کیفیت، مشاہدہ اور کامیابی کو اللہ کی طرف سے عطا سمجھ کر شکر و خاموشی اختیار کی۔
اصل کرامت یہ ہے کہ انسان مشکل میں بھی شریعت کے دائرے سے باہر نہ جائے، اور اصل فیض یہ ہے کہ دوسروں کے لیے سکون پیدا کرے، نہ کہ خوف یا حیرت۔
روحانی وابستگی اور صبر
روحانی وابستگی یہ سکھاتی ہے کہ ہر راستہ امتحان سے گزرتا ہے۔ جو عاجزی، صبر اور توکل کے ساتھ قائم رہتا ہے، وہی آگے بڑھنے کے اہل ٹھہرتا ہے۔ یہ وابستگی آج بھی زندہ ہے—خاموش مگر گہری، غیر نمایاں مگر مضبوط۔
باطن کی دنیا مرحلہ وار کھلتی ہے، کچھ برس ایک مقام پر رہنے کے باوجود بنیادیں مضبوط ہو رہی ہوتی ہیں۔ یہی وہ نازک مقام ہے جہاں اکثر لوگ پیچھے ہٹ جاتے ہیں، جبکہ صبر کرنے والا آگے کی منزلیں طے کرتا ہے۔
اختتام: جاری روحانی سفر
یہ تجربہ واضح کرتا ہے کہ ترقی مشاہدہ نہیں بلکہ اطاعت ہے، اور بلندی کرامت نہیں بلکہ عاجزی ہے۔ روحانی راستے کی سب سے بڑی آزمائش نفس ہے، جو خوف، غرور یا جلد بازی میں سامنے آتا ہے۔
روحانی علوم کا مقصد لوگوں پر فوقیت حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے اندر کے اندھیروں کو ختم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روحانی مشاہدات صرف واقعات نہیں رہتے بلکہ انسان کی زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں، اور یہی اس سلسلے کی اصل بنیاد ہے، جس کی تفصیل آئندہ اقساط میں بتدریج سامنے آئے گی۔

