سیاست اور فلکی اشارے
یونانی نجوم اور سیاست کا باہمی تعلق
یونانی نجوم میں سیاست کو صرف زمینی طاقت کا کھیل نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے آسمانی حرکات کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔
سیاروں کی گردش، شرف و ہبوط، رجعت اور گرہن جیسے مظاہر اجتماعی شعور، حکمرانوں کے فیصلوں، ریاستی اداروں کے رویّوں اور عوامی رجحانات پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
فروری کے فلکی نقشے میں سیاست، معیشت، خارجہ امور اور دفاع ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان اور قمر در عقرب کے اثرات
پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اس وقت شدید ذمہ داریوں اور دباؤ کے دور سے گزر رہے ہیں۔
قمر در عقرب اور ہبوطِ قمر کے ایام اس بات کی علامت ہیں کہ نیت اور کوشش کے باوجود بعض فیصلوں کے نتائج میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
یونانی حساب کے مطابق یہ کیفیت مشیروں کے اختلافات، بیوروکریسی کی سست روی اور سیاسی اتحادیوں کے بڑھتے مطالبات کی نشاندہی کرتی ہے، جو فروری کے ابتدائی دنوں میں نمایاں نظر آتی ہے۔
وزیر خزانہ اور عطارد کی فلکی کیفیت
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے لیے فروری کا مہینہ معاشی اعتبار سے نہایت حساس ہے۔
عطارد، جو تجارت اور معیشت کا سیارہ ہے، 15 فروری کو ہبوط اور 26 فروری کو رجعت میں جاتا ہے، جو اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مالی فیصلوں پر نظرِ ثانی ضروری ہو گی۔
آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاملات میں تاخیر اور شرائط کی سختی اسی فلکی کیفیت کا مظہر ہے۔
یونانی نجوم کے مطابق یہ مہینہ نئے معاہدوں کے بجائے پرانے معاملات کی اصلاح کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
وزیر خارجہ اور عالمی سفارت کاری
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے لیے فروری سفارتی لحاظ سے نازک مگر اہم مہینہ ہے۔
مریخ کے حضیض اور عطارد کے ہبوط کے باعث عالمی سطح پر بیانات میں لغزش اور غلط فہمیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
ایران، افغانستان، چین اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں محتاط طرزِ گفتگو ناگزیر ہے۔
اگرچہ فوری بڑی سفارتی کامیابی نظر نہیں آتی، مگر پس پردہ روابط مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
وزیر دفاع اور مریخ کا حضیض
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے لیے مریخ کا حضیض واضح پیغام دیتا ہے کہ دفاعی امور میں طاقت کے بجائے حکمت اور تدبر ضروری ہے۔
یہ فلکی کیفیت اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کو کسی بڑے عسکری تصادم کا سامنا نہیں، مگر داخلی سلامتی اور سرحدی نظم و ضبط پر خاص توجہ درکار ہے۔
وزیر داخلہ اور داخلی سیاسی دباؤ
وزیر داخلہ حسن نقوی کے لیے قمر در عقرب اور شمسی گرہن داخلی سیاسی دباؤ میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
احتجاجی سیاست، عوامی ردِعمل اور انتظامی چیلنجز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یونانی نجوم کے مطابق گرہن عوامی بے چینی کو بڑھاتا ہے، اس لیے فروری میں سختی اور نرمی کے درمیان توازن رکھنا ایک بڑا امتحان ہوگا۔
برج دلو میں شمسی گرہن کے اثرات
17 فروری کا شمسی گرہن برج دلو میں عوامی شعور اور اجتماعی رویّوں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
یہ گرہن حکمرانوں کے لیے تنبیہ ہے کہ عوامی رائے کو نظرانداز کرنے کے نتائج دیرپا ہو سکتے ہیں۔
میڈیا کے کردار میں شدت اور عوامی مباحثے میں اضافہ متوقع ہے۔

عالمی سیاست: ایران، امریکہ اور دیگر تنازعات
فروری کے ستارے ایران اور امریکہ کے تعلقات میں براہِ راست جنگ کے امکانات کم دکھاتے ہیں۔
عطارد کی کمزوری بیان بازی کو تیز مگر عملی پیش رفت کو سست کر دیتی ہے۔
روس، یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات بھی اسی عبوری کیفیت کا شکار نظر آتے ہیں جہاں جنگ کے بجائے مذاکرات پر دباؤ بڑھتا ہے۔
شرفِ قمر: امید کی ایک کرن
22 فروری کو شرفِ قمر مہینے کا ایک روشن نقطہ ہے۔
یونانی نجوم کے مطابق یہ دن قبولیت اور کامیابی کا حامل ہوتا ہے۔
پاکستان میں اس کے اثرات کسی مثبت سیاسی پیش رفت، معاشی ریلیف یا سفارتی خوشخبری کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
عطارد کی رجعت اور احتیاط کا پیغام
26 فروری کو عطارد کی رجعت حکمرانوں کو خبردار کرتی ہے کہ جلد بازی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
فیصلوں پر نظرِ ثانی، بیانات میں احتیاط اور تحریری معاہدوں میں باریک نکات پر توجہ ناگزیر ہے۔
یونانی حساب کے مطابق اسی تدبر سے آنے والے مہینوں میں مضبوط پوزیشن حاصل ہوتی ہے۔
زحل اور مشتری کے طویل المدتی اثرات
فروری میں زحل کا غیر محسوس مگر طاقتور اثر ریاستی اداروں، قانون اور نظم و ضبط کو مضبوط بناتا ہے۔
یہ مہینہ وقتی مقبولیت کے بجائے پائیدار فیصلوں کا متقاضی ہے۔
مشتری کے نظرات امید اور وسعت کا پہلو پیدا کرتے ہیں، خاص طور پر معیشت، تعلیم اور بین الاقوامی تعاون کے شعبوں میں۔
مجموعی فلکی تجزیہ
فروری کے مجموعی فلکی نقشے کے مطابق پاکستان اور دنیا ایک نازک مگر فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔
یہ مہینہ بڑے انقلابی اقدامات کے بجائے پس پردہ تیاری، اصلاح اور توازن کا ہے۔
فلکی اشارات یہی پیغام دیتے ہیں کہ جو قیادت صبر، حکمت اور مشاورت کا راستہ اختیار کرے گی، وہ مستقبل میں کامیابی حاصل کرے گی۔
یہی وہ فکری اور روحانی بصیرت ہے جو اس مضمون کے ذریعے تحفہ روحانیات کے قارئین تک پہنچانا مقصود ہے۔

