جادو کی ابتداء کیسے ہوئی؟

انسانی تاریخ کے اوراق پلٹنے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ انسان ہمیشہ سے کائنات کے رازوں کو جاننے کا متلاشی رہا ہے۔ آسمان کے ستارے، زمین کی پوشیدہ طاقتیں، روشنی و تاریکی کے اسرار، زندگی اور موت کے بھید—یہ سب موضوعات انسان کی توجہ کا مرکز رہے۔ اسی جستجو نے انسان کو علم کی راہ پر بھی ڈالا اور گمراہی کے راستے پر بھی۔ جہاں ایک طرف انبیاء کرام علیہم السلام نے وحی کے ذریعے انسان کو حقیقتِ کائنات سے روشناس کرایا، وہیں دوسری طرف شیاطین اور گمراہ انسانوں نے جادو اور سحر کی شکل میں ایسا راستہ اپنایا جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے دور کرتا رہا۔

جادو کی ابتداء دراصل اسی جستجو اور بغاوت سے ہوئی کہ انسان قدرتی قوانین کو توڑے، غیر معمولی طاقت حاصل کرے اور دوسروں پر غلبہ پائے۔

قدیم تہذیبوں میں جادو

بابل (Babylon)
تاریخ کے مطابق بابل جادو کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ یہاں کے کاہن اور نجومی سیاروں کی چالوں کو انسانی زندگی پر اثرانداز سمجھتے اور ان کے ذریعے طلسم بناتے۔ قرآنِ کریم نے بھی بابل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں دو فرشتے، ہاروت اور ماروت، لوگوں کو آزمائش کے طور پر جادو سکھاتے تھے۔

قدیم تہذیبوں میں جادو

بابل (Babylon)
تاریخ کے مطابق بابل جادو کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ یہاں کے کاہن اور نجومی سیاروں کی چالوں کو انسانی زندگی پر اثرانداز سمجھتے اور ان کے ذریعے طلسم بناتے۔ قرآنِ کریم نے بھی بابل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں دو فرشتے، ہاروت اور ماروت، لوگوں کو آزمائش کے طور پر جادو سکھاتے تھے۔

Magic, astrology, and spiritual rituals across civilizations

مصر (Egypt)
مصر میں جادو کا نظام مذہب کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ فرعونوں کے دربار میں جادوگر بڑی عزت رکھتے۔ قرآنِ کریم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں فرعون کے جادوگروں کے واقعے کو بیان کرتا ہے کہ کس طرح ان کے جادو نے رسیاں اور لاٹھیاں سانپ کی طرح نظر آئیں، مگر اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ کے عصا کو برحق معجزہ بنا کر ان سب کے جادو کو باطل کر دیا۔

یونان (Greece)
یونان میں جادو فلسفہ اور دیومالائی تصورات کے ساتھ جڑا رہا۔ یونانی پجاری اور کاہن دعویٰ کرتے کہ وہ دیوی دیوتاؤں سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ علمِ نجوم اور ستارہ شناسی بھی یونان میں جادو کا ایک اہم ذریعہ تھا۔

ہندوستان (India)
ہندوستان میں جادو کو “تانترک ودیا” اور “منیتر” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ویدوں میں بھی ایسے منتر درج ہیں جو غیر معمولی اثرات کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔

چین (China)
چین میں جادو “تاؤ مت” اور “یِن یانگ” فلسفے کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ چینی جادوگر قدرتی قوتوں کے توازن کو بدل کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

یورپ (Europe)
یورپ میں قرونِ وسطیٰ کے دور میں جادو کو “وِچ کرافٹ” کہا گیا۔ کلیسا کے زمانے میں جو عورتیں جادو میں ماہر ہوتیں انہیں جلا کر مار دیا جاتا۔

مذہبی صحائف میں جادو کا ذکر

قرآنِ کریم
قرآن میں جادو کو حقیقت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے مگر اس کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ سب سے اہم ذکر حضرت سلیمانؑ کے بارے میں ہے۔

بائبل
بائبل میں بھی جادو کی مذمت کی گئی ہے۔ پرانے عہدنامے میں لکھا ہے کہ جو جادو کرتا ہے اسے خدا کی لعنت ہے۔

دیگر مذاہب
ہندو ویدوں، بدھ مت، اور زرتشتی مذہب میں بھی جادو کے اثرات اور ان کے خلاف دعا یا عمل کا ذکر موجود ہے۔

جادو کی بنیاد: خوف اور لالچ

انسانی دل کی دو بڑی کمزوریاں جادو کی بنیاد بنیں: خوف اور لالچ۔

جادو اور شیطانی تعلق

اسلامی تعلیمات کے مطابق جادو کی اصل بنیاد شیاطین ہیں۔ وہ انسانوں کو بہکانے کے لیے انہیں ایسے طریقے سکھاتے ہیں جن سے وقتی طور پر نتائج حاصل ہوتے ہیں مگر آخرکار یہ کفر اور ہلاکت کی راہ پر لے جاتے ہیں۔

اسلام کا نقطۂ نظر

اسلام میں جادو کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو… ان میں سے ایک جادو ہے۔”

خلاصہ

جادو کی ابتداء انسان کی فطرت میں چھپی ہوئی خواہش سے ہوئی کہ وہ طاقت اور اختیار حاصل کرے۔ بابل سے لے کر یورپ تک ہر تہذیب نے جادو کو اپنایا۔ لیکن ہر دور میں اللہ تعالیٰ کے پیغمبر اور نیک لوگ یہ پیغام دیتے رہے کہ اصل طاقت صرف اللہ کے پاس ہے۔ جادو وقتی طور پر اثر ڈال سکتا ہے لیکن انجام کار یہ انسان کو گمراہی اور تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔

Need Help? Chat with us