اسرارِ کراماتُ الْقُدُّوس
اللہ تعالیٰ کے ننانوے بابرکت اسمائے حسنیٰ میں ہر نام اپنی جگہ ایک مستقل نور، ایک کامل صفت اور ایک روحانی خزانہ رکھتا ہے، مگر ان میں بعض اسماء ایسے ہیں جو انسان کے ظاہر ہی نہیں بلکہ باطن کو بھی جھنجھوڑ دیتے ہیں، اس کی سوچ، نیت، احساس اور روح تک کو پاکیزگی کے نور میں نہلا دیتے ہیں۔ انہی عظیم اسماء میں ایک نہایت جلیل القدر اور نوری نام القدوس ہے۔
اسمِ مبارک القدوس ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتا ہے کہ اللہ رب العزت کی ذات ہر نقص، ہر کمی، ہر آلائش، ہر ظلمت اور ہر عیب سے پاک ہے۔ وہ نہ صرف ظاہری پاکیزگی کا منبع ہے بلکہ باطنی صفائی، قلبی طہارت اور روحانی لطافت کا سرچشمہ بھی وہی ہے۔
انسان اگر اس اسم کے مفہوم کو سمجھ لے اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو اس کی دنیا بھی سنور جاتی ہے اور آخرت بھی نکھر جاتی ہے۔
لغوی معنی
قدوس عربی مادہ ق د س سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں:
پاک ہونا، بہت زیادہ پاک ہونا، ہر عیب سے منزہ ہونا، بلند و برتر ہونا۔
اصطلاحی مفہوم
القدوس وہ ذاتِ باری تعالیٰ ہے جو ہر جسمانی، ذہنی، روحانی، زمانی اور مکانی قید سے پاک ہے۔ جس پر نہ نیند طاری ہوتی ہے، نہ تھکن، نہ کمزوری اور نہ زوال۔ وہ ہر اس شے سے منزہ ہے جس کا تصور مخلوق کر سکتی ہے۔
قرآنِ مجید میں اسمِ مبارک القدوس
يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
(سورۃ الجمعہ)
تشریح:
اس آیتِ مبارکہ میں پوری کائنات کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی کا گواہ بنایا گیا ہے۔ آسمان ہوں یا زمین، ذرے ہوں یا کہکشائیں، سب اس حقیقت کی تسبیح کر رہے ہیں کہ ان کا رب القدوس ہے۔ پاک اور بلند، اور اسی پاکیزگی کا پرتو کائنات میں نظم اور توازن پیدا کرتا ہے۔
هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ
(سورۃ الحشر: 23)
تشریح:
یہ آیت اللہ تعالیٰ کی نوری صفات کا جامع بیان ہے، جن میں القدوس ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ رب کی بادشاہی بھی پاک ہے، اس کی قدرت بھی پاک ہے اور اس کا نظام بھی ہر نقص سے پاک ہے۔

اسمِ القدوس کی روحانی جہات
باطن کی صفائی: دل سے کینہ، حسد، بغض اور نفرت دھل جاتی ہے۔
نفس کی تہذیب: نفس پاکیزگی کی طرف مائل ہوتا ہے۔
سوچ کی اصلاح: منفی خیالات اور وسوسے کم ہونے لگتے ہیں۔
اعمال میں طہارت: حلال و حرام کا شعور بیدار ہوتا ہے۔
روحانی نور: دل میں لطیف نور اترتا ہے اور عبادت میں لذت پیدا ہوتی ہے۔
وظائفِ اسمِ قدوس
وظیفہ
يَا قُدُّوسُ يَا نُور — 131 مرتبہ بعد از فجر
یہ دل کو آئینے کی طرح صاف کر دیتا ہے، مسلسل 21 دن کے ورد سے خواب پاکیزہ اور فکر روشن ہو جاتی ہے۔
وظیفہ
رَبِّ طَهِّرْ قَلْبِي بِنُورِ الْقُدُّوسِ — 101 مرتبہ
یہ دعا دل کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے اور حسد و رنجشوں کو جلا دیتی ہے۔
وظیفہ
يَا قُدُّوسُ يَا سَلَامُ — 111 مرتبہ بعد مغرب
گھر میں سکون، باتوں میں نرمی اور رشتوں میں توازن پیدا ہوتا ہے۔
وظیفہ
قُدُّوسٌ طَاهِرٌ مُنَزَّهٌ — 100 مرتبہ
جسم اور روح دونوں پر اثر ڈالتا ہے، خاص طور پر اعصابی دباؤ میں مفید ہے۔
وظیفہ
يَا قُدُّوسُ أَغِثْنِي — 33 مرتبہ
دل بوجھل ہو یا طبیعت گھبرائے تو فوری سہارا بنتا ہے۔
وظیفہ
جمعہ کے بعد 1000 مرتبہ يَا قُدُّوسُ
باطنی آنکھ کو روشن کرتا ہے، بشرطیکہ نیت پاک ہو۔
وظیفہ
سوتے وقت 313 مرتبہ يَا قُدُّوسُ
خوابوں کی دنیا صاف اور بامعنی ہو جاتی ہے۔
وظیفہ
اللَّهُ الْقُدُّوسُ نُورُ السَّمَاوَاتِ
علمِ دین میں فہم اور دل میں نور پیدا ہوتا ہے۔
وظیفہ (بچوں کیلئے)
41 مرتبہ دم — ضد، خوف اور بے چینی میں حیرت انگیز کمی آتی ہے۔
وظیفہ
يَا قُدُّوسُ وَاحِدٌ أَحَدٌ — 40 مرتبہ
اہم کام سے قبل پڑھنے سے نیت خالص رہتی ہے۔
وظیفہ
يَا قُدُّوسُ تَجَلَّ لِي — 121 مرتبہ شبِ جمعہ
باطنی سکون اور روحانی قرب کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
وظیفہ
يَا قُدُّوسُ يَا مُقَدِّسُ — 313 مرتبہ
اولاد اور ماحول دونوں میں پاکیزگی آتی ہے۔
وظیفہ
اِجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ
انسان کو توبہ کی طرف مائل کرتا ہے۔
:وظیفہ
يَا قُدُّوسُ يَا جَلِيلُ يَا نُورُ
قرآن فہمی اور روحانی اسرار میں اضافہ ہوتا ہے۔
وظیفہ
بِرَحْمَتِكَ نَقِّنِي — 100 مرتبہ جمعہ
دل کا بوجھ ہلکا اور راستے روشن ہو جاتے ہیں۔

روحانی رہنمائی اور نسبتِ فیض
دورِ حاضر میں جب روحانی الجھنیں، باطنی بے چینی اور فکری آلودگیاں عام ہو چکی ہیں، ایسے میں اسمائے حسنیٰ کی درست رہنمائی نہایت ضروری ہے۔
ماہرِ روحانیات محمد ایاز مزمل حسین شاہ کی خدمات اہلِ دل سے مخفی نہیں۔ ان کی نسبت، خاموش محنت اور طریقِ اصلاح یہی ہے کہ انسان کو شور سے نکال کر نور کی طرف لایا جائے اور ظاہری دعوؤں کے بجائے باطنی صفائی پر توجہ دی جائے۔
اسی نسبتِ فیض کا تسلسل روحانی ماہنامہ تحفہ روحانیات میں واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ رسالہ محض مطالعہ نہیں بلکہ ایک روحانی صحبت ہے، جو قاری کو ہر ماہ کسی نہ کسی اسمِ الٰہی، قرآنی نکتے یا باطنی حقیقت سے جوڑ دیتا ہے۔
کامیابی ظاہری چمک نہیں بلکہ باطنی صفائی ہے۔ دل پاک ہو تو راستے خود بخود ہموار ہو جاتے ہیں، اور نیت صاف ہو تو رب کی مدد شاملِ حال ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اسمِ القدوس کے نور سے ہمارے دل، ہمارے گھر، ہماری سوچ اور ہمارے اعمال پاک فرمانے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں سچے روحانی فیض سے وابستہ رکھے۔

